Search Bar

Dil Ki Lagan – دل کی لگن 3 aurtain 3 kahaniyanFamous Stories TEEN AURATIEN TEEN KAHANIYAN

 

Dil Ki Lagan – دل کی لگن  3 aurtain 3 kahaniyanFamous Stories TEEN AURATIEN TEEN KAHANIYAN


پھو پھی صندل نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تو سب گھر والے ان سے خفا ہو گئے۔ بہر حال پھوپی کی رخصتی ہوگئی۔ انہوں نے کبھی دل پر صبر کا پتھر رکھ لیا۔ ہمارے والدین نے ان سے رابطہ رکھا اور نہ ہی انہوں نے ہم سے میل ملاقات کی کوشش کی ۔ پچھو پھی نے جس شخص کو اپنا جیون ساتھی چنا تھا وہ پہلے سے شادی شدہ بال بچوں والا تھا۔ اسی اختلاف کے باعث میرے والدین پھو پھی کی وہاں شادی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ خیر شادی ہو گئی۔ اس کے بعد جیسے بھی حالات رہے پھو پھی نے کبھی اپنے میکے سے امداد طلب نہ کی۔ وو برا لا وقت گزارتی ہیں اور ہمارے گھر بھی ہم جب بڑے ہو گئے تو اتنا کہ ہماری ایک پھو پھی ہیں جو کسی بستی میں بیاہی ہوئی ہیں اور ہمارے گھر شادی کے بعد بھی نہیں آئیں۔ شادی بیاہ و دیگر تقریبات میں جب رشتہ دار اکٹھے ہوتے تو دادی جان پھو پھی صندل کی کمی محسوس کرتی تھیں لیکن وہ بھی بلیوں کے آگے مجبور تھیں۔ تاہم جب دادی کا وقت قریب آیا تو مرنے سے پہلے انہوں نے میرے والد کو بلا کر کہا کہ اگر کبھی صندل یا اس کی اولاد خود رابطہ کرے تو میری آخری خواہش یہ ہے کہ تم لوگ ٹھکرانا نہیں۔ اس کی خطا کو معاف کر دیا اور اس کو گلے سے لگا لینا۔ اگر وہ تم لوگوں سے دو بار در شتہ جوڑنا چاہے تو اس کی اولاد سے اپنی اولاد کا رشتہ کر کے اس برسوں کے ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑلینا۔ ابو جان نے وعدہ کر لیا۔ اللہ کا کرنا کہ اس کے تین دن کے بعد دادی جان فوت ہو گئیں۔ مجھے اس شفیق ستی کے دنیا سے چلے جانے کا بہت قلق تھا۔ ہر وقت سوچا کرتی، اے کاش میں ان کی آخری خواہش پوری کر سکتی اور ان کی چھڑی میی صندل کو خاندان سے ملانے کا وسیلہ بن سکتی۔ یہ مگر بہت مشکل تھا بلکہ ناممکن سی بات لگتی تھی۔ اب صرف دعا کا ہی سہار ا رہ گیا تھا۔ ایک دن میں گھر میں کھانا پکار ہی تھی کہ فون کی بیل ہو گئی۔ میں نے ریسیور اٹھالیا۔ ایک اجنبی لڑکے کی آواز تھی۔

مجھی کہ رانگ نمبر ہے۔ میں نے فون رکھ دیا۔ ذرا دیر بعد پھر گھنٹی بجی۔ وہی لڑکا بول رہا تھا۔ کہنے لگا۔ پلیز شاہینہ فون بند مت کرنا۔ میں حیران رہ گئی یہ کون ہو سکتا ہے جو اس قدر بے تکلفی سے بات کر رہا ہے اور اس کو میرا نام بھی معلوم ہے۔ پوچھا۔ آپ کون صاحب بول رہے ہیں؟ کہنے لگا۔ میں تمہاری پھوپھی صندل کا بیٹا بات کر رہا ہوں ۔ پھو پھی صندل کا نام سن کر میرا دل دھڑکنے لگا۔ مجھے کس قد اشتیاق تھان سے ملنے کا ان کو دیکھنے کا اور آج ان کا بیٹا ہمارے گھر فون کر رہا تھا

۔ میں تواس دن کو ترستی تھی جب بھی میں اپنی پھوپھی کو دیکھوں۔ بار پادادی جان کے منہ سے ان کا نام سنا تھا۔ دادی بھی کبھی اپنی اس بیٹی کو یاد کر کے ٹھنڈی آہیں بھرتی تھیں اور آنسو بہایا کرتی تھیں۔ جس کو اپنی پسند کی شادی کرنے کی سزا کی تھی۔ ندیم میر ہی نہیں، میرے سب بھائی بہنوں کا نام جانتا تھا۔ اس کے دل کا بھی یہی حال تھا کہ جو میراتھا۔ وہ بھی ہم سب سے ملنے کو ترستا تھا کیونکہ پچھو پھی اب بھی ہم سے محبت کرتی تھیں اور انہیں حسرت تھی کہ ان کے بھائی اور بھابھیاں ایک بار آ کر گلے سے لگا لیں۔ اگلے دن اس نے پھر فون کیا۔ فون میں نے اٹھایا۔ اس دن کے بعد یہ روز کا معمول ہو گیا۔ وہ فون کرتا اور ہم دو چار باتیں کر لیتے لیکن میں امی کے ڈر سے کسی کو نہ بتاتی تھی کہ پھو پھی کا نیا فون کرتا ہے کیونکہ امی جان ابھی تک پھوپھی سے نفرت کرتی تھیں۔ چھ ماہ تک میں ندیم سے چپکے چپکے باتیں کرتی رہی۔ میں چاہتا تھا اس کو دیکھوں۔ ایک دن اس

نے کہا میں فلاں وقت تمہاری گلی سے گزروں گا، تم مجھے دیکھ لینا۔ میں چپکے سے چھت پر گئی اور دیکھ لیا۔ ندیم مجھے بہت اچھاگا۔ دوسرے دن اس نے فون پر پوچھا۔ بقول آپ کے آپ کو ندیم نام تو بہت پسند ہے۔ کیا آپ

کے ذہن نے اس کی کوئی تصویر بھی بنارکھی ہے؟ میں نے کہا۔ ہاں۔ بالکل آپ جیسی ہی آپ کی تصویر میرے ذہن میں تھی۔ میں نے اس سے اس کا آئیڈیل پوچھا۔ انہوں نے بتایاتواسے سن کر ڈر گئی۔ کیونکہ میں اس کا بالکل الٹ

تھی۔ اس لئے اب جب بھی ندیم کہتا میں تم کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ تم اپنے گھر کے گیٹ پر فلاں وقت آنا۔ میں ادھر سے گزروں گا۔ میں ٹال جاتی تھی۔ میں تو بالکل خوبصورت نہیں ہوں۔ وہ مجھے دیکھ کر کتنامانوس ہو گا۔ ایک رات میں اپنی بہن کے ساتھ تھی۔ میری بہن جانتی تھی کہ میں کسی ند یم نامی لڑکے سے فون پر بات کرتی ہوں۔ انہوں نے سمجھا اگر میں تو نام کے ساتھ ساتھ ان سے بھی محبت کرنے لگی تھی۔ فون کی بیل پر میں نے دعا کی خدا کرے ندیم کافون ہو۔ میں نے فون اٹھایا توند میم کی آواز تھی۔ اس نے ایک جنرل اسٹور شہر میں لگایا ہوا تھا جبکہ پہلے وہ اپنی بڑی امی کے پاس بستی میں رہتا تھا اور اس کی اپنی امی یعنی ہماری پھوپھی اور پھوپھی جان کو منہ میں رہتے تھے۔ کیونکہ پھوپی کی ملازمت کوئٹہ میں تھی۔ ندیم کی بڑی امی ، اس کی شادی اپنی سہیلی کی بیٹی کے ساتھ کرنا چاہتی تھیں۔ اس نے فون کر کے مجھے سب کچھ بتادیا اور پوچھا اب میں کیا کروں؟ میں تو پریشان ہو گئی مگر جلدی سے خود کو سنبھال لیا کہ اگر میں اس سے محبت کرنے لگی ہوں تو ضروری نہیں کہ ندیم بھی مجھ سے محبت کرتا ہو۔ اس نے تو مجھے ابھی تک دیکھا بھی نہیں تھا۔ لمذا میں نے کہا۔ آپ وہاں شادی کر لیں۔ ندیم نے پوچھا کیا۔ آپ میرے ساتھ محض وقت گزاری کر رہی ہیں ؟ تو مجھے بہت برا لگا۔ پھر انہوں نے کہا کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی ؟ اگر ہاں تو مجھے کتنا انتظار کرنا ہو گا۔ یہ برسوں کا خاندانی تنازع ہے۔ اس لئے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ اس نے کہا۔ آپ ہاں کر دیں، میں دس میں سال نہیں ساری زندگی انتظار کر سکتا ہوں۔ میں رو پڑی اور فون بند کر دیا۔ مجھے یقین تھا کہ بڑوں کا تنازع بھی ختم نہیں ہو اگلے دن ڈائری میں سب باتیں لکھ رہی تھی اور رورہی تھی ۔ یقین تھا کہ ندیم اب نکاح کے بعد ہی آئیں گے کہ ان کی بہن کا فون آ گیا۔ اس کا نام نہیں تھا۔ انہوں نے کہا۔ شاہینہ میں کل تم سے ملنے آئوں گی۔ میں گھبراگئی کیونکہ امی کو توند یم کے بارے میں کچھ بتایاہی نہیں تھا۔ دوسرے

دن باجی ناہید آ گئیں۔ کسی کو نہ بتایا کہ پھوپھی صندل کی بیٹی ہے۔ بھابھی سمجھیں کہ یہ میری سہیلی ہو گی۔ انہوں نے آ کر سب سے پہلے میر اپوچھا۔ پھر میرے کمرے میں چلی آئیں اور مجھے خوب پیار کیا۔ بتایا بھائی نے ضد کر کے بڑی امی سے انکار کر دیا ہے کہ وہ وہاں

نکاح نہیں کریں گے ۔ یہاں مجھے لائے ہیں تا کہ تم سے مل لوں اور تمہاری رائے معلوم کر لوں۔ ناہید یابی اس جھگڑے کا کیا ہو گا جو میرے والدین نے برسوں سے اپنے دلوں میں پال رکھا ہے؟ وہ بھی میرے گلے لگ کر رونے لگیں کہ میری بھابھی صرف تم ہی بنو گی اور اس رشتے کے توسط سے ہی ماموں اور ممانی سے ہم لوگوں کی صلح ہوگئی۔ کافی دیر تک کمرہ بند کر کے ہم دونوں روتی رہیں۔ پھر وہ میری ڈائری لے گئی کہ میں ندیم بھائی کو بتائوں گی تم ان سے کتنا پیار کرتی اگلے دن ندی کا فون آگیا کہ پلیز مجھے معاف کردو شابیہ ۔ مجھے خبر نہیں تھی کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔ تم نے مجھے کچھ بتایاتو ہوتا۔ میں نے جواب دیا۔ کیا اب مجھے ہر بات اپنی زبان سے کہنی پڑے گی۔ میں توڈرتی تھی کہ آپ کا آنیڈ میں نہیں ہوں۔ تو وہ بولے۔ آپ جیسی بھی ہیں میرا آئیڈ میں ہیں۔ اب میں امی کو آپ کے گھر بھیجوں گا۔ میرے لئے یہ تصور ہی بڑا خوش آند تھا کہ پھو پھی صندل ہارے گھر آرہی تھیں۔ مجھے ابو کی طرف سے اطمینان تھا۔ کیونکہ انہوں نے دادی جان مرحومہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر بھی پچھو بھی ہمارے گھر آئیں گی تو یہ ان کو ٹھکرائیں

گئے ہیں جبکہ اسی کی طرف سے خدشہ ضرور تھا لیکن ان دنوں ہم دو بہنیں اپنے بھائی کے پاس تھیں جبکہ باقی بہن بھائی اور اسی لاہور میں تھے۔ ایک دن پھو پھی ہمارے گھر آ ہی گئیں۔ وہ دن میرے لئے جیسے عید کادن تھا۔ برسوں کی خواہش آج پوری ہوگئی تھی۔ میں اور بانی ان کے گلے لگ گئے۔ انہوں نے ہمیں بہت پیار کیا۔ پھر باجی سے پوچھا کہ کہیں اس کا رشتہ تو طے نہیں ہوا ہے؟ باجی نے کہا کہ نہیں۔ تو وہ بولیں۔ جب آپ کی امی آئیں تو مجھے بتادینا۔ اس دن میں بہت خوش تھی کہ آنٹی تو مجھے مانگ لیں گی۔ اللہ کرے میرے گھر والے بھی مان جائیں۔ دو ماہ بعد میں آئیں تو اتنی بھی آ گئیں۔ میرا رشتہ مانگا۔ امی نے انہیں مایوس نہیں کیا۔ آنٹی سے گلے میں اور کہا کہ میرا کبھی جی چاہتا تھا تم سے دو بار درشتہ قائم ہو کیونکہ تمہاری والدہ تمہاری جدائی میں تو پین چل بسیں۔ میں ان کی خواہش کا ضرور احترام کروں گی، لیکن شاہدیہ ابھی چھوٹی ہے۔ اس سے بڑی جو اور میری بیٹیاں ہیں، آپ ان میں سے کسی کا رشتہ لے لیں، مگر وہ نہ مانیں کیونکہ جانتی تھیں کہ ندیم اور میں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ جب کہ میرے گھر میں یہ بات میری ایک بہن کو پتا تھی۔ صندل آنٹی نے بہت اصرار کیا مگر میرے گھر والوں نے کہا کہ سوچیں گے ۔ میری بہنوں نے امی کو کافی سمجھایا۔ وہ نہ مانیں۔ ایک دن ای ہماری سہیلیوں کے گھر گئیں تو انہوں نے بھی امی سے کہا کہ آپ وہاں رشتے کے لئے ہاں کر دیں، تب میری امی سمجھ لیں کہ ضرور کوئی بات ہے جو سب اتنا کہہ رہے ہیں۔ کچھ دن رہ کر ائی واپس لاہور چلی گئیں۔ بڑی عید میں ایک دن باقی تھا۔ کسی بات پر ندیم مجھ سے ناراض تھے۔ میں بازار ان کے لئے گفٹ لینے گئی اور ان کی دکان پر چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد میں نے کہا مجھے ر کشہ کر وادیں۔ گھر جانا چاہتی ہوں۔ ہم روڈ پر آئے۔ سامنے

سے میرا بڑا بھائی آرہا تھا۔ اس نے ہمیں دیکھ لیا۔ ہم ایک دم سے واپس مڑے اور ایک دکان میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ہم روڈ کراس کرنے لگے تو وہاں میرا چھوٹا بھائی نظر آیا۔ اب تو میرے حواس بالکل یہی جواب دے گئے۔ ندیم

نے مجھے رکشے میں بٹھا دیا اور تسلی دی۔ گھبرائی نہیں ۔ بھائی نے نہیں دیکھا ہے۔ میں صبح عید کی نماز کے بعد آپ کی گلی میں آئوں گا۔ بھائی نے دیکھ لیا ہے۔ آپ اب مت آنا۔ میں نے اسے بتایا۔ گھر آکر میں نے بہن کو ساری بات بتادی۔ تھوڑی دیر بعد بھائی آ گئے۔ وہ بہت غصے میں تھے۔ کہنے لگے میں آج تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ انہوں نے مجھے خوب مارا۔ میں بے ہوش ہو گئی۔ جب بڑے بھائی گھر آئے توانہوں نے بتایا کہ یہ ندیم کے ساتھ بازار میں گھوم رہی تھی۔ مسیح عید تھی اور چاند رات کو میر کی شامت آگئی تھی۔ جب مجھے ہوش آیا اور میں کچھ سوچنے کے قابل ہوئی تو خیال آیا بھائی اتنے غصے میں ہیں۔ ندیم ہماری گلی میں آئے تو نجانے بھائی ان کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ میں نے بڑی مشکل سے ایک کاغذ پر لکھا کہ آپ میں ہماری گلی میں نہیں آتا بلکہ بستی چلے جانا۔ اپنی بہن سے کہا۔ میج سب سے پہلے یہ ندیم کو بھجوادینا۔ اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔ نہ یہ بتا کہ یہ کب ہوئی۔ ہمارے گھر قربانی کب ہوئی ۔ بھائی کے ڈر سے کسی نے بھی آ کر پیار نہ کیا۔ شام کو بھابھی نے آ کر پیار کر کے اٹھایا کہ کل سے بھوکی ہو۔ کچھ کھالو۔ میں نے کہا۔ جب تک آپ لوگ پھو پھی صندل کو قبول نہیں کر لیں گے ، میں کچھ نہیں کھائوں گی۔ بجھا بھی بولیں۔ میں وعدہ کرتی ہوں تمہارا رشتہ وہاں کروادوں گی۔ تبھی زبردستی انہوں نے مجھے تھوڑا سا دودھ پلایا۔ ان کے پیار بھرے سلوک نے اس دن مجھ کو ڈھارس دی۔ اگلے دن ذرائٹنے کے قابل ہو گی۔ بھائیوں کا تو سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی کہ فون کی بیل ہو گئی۔ بھائی نے بھائی کو بتادیا کہ وہی ندیم ہے، پچھو پھی صندل کا بیٹا۔ بھابھی نے پھر بھائی کو سمجھایا۔ بھائی نے اتنا کہا۔ میں سارے بھائیوں اور ابو سے مشورہ کروں گا، پھر آنٹی سے بات ہو گی۔ بھابھی نے آ کر مجھے پیار کیا کہ تمہارا بھائی پیچھے کچھ مان گیا ہے۔ تبھی بھائی نے امی کو فون کیا اور ساری بات بتائی۔ مشورہ مانگا لیکن امی نے صاف انکار کر دیا۔ انٹی آئیں تو ان کے ساتھ ندیم کے والد اور بڑے

بھائی بھی تھے۔ سب کے سمجھانے سے بھائی نے ہاں کر دی کیونکہ ایک دن پہلے تینوں بھائیوں نے اکٹھے بیٹھ کر فیصلہ کیا تھا کہ بد نامی سے اچھا

ہے کہ ہم خود ہی عزت سے یہ رشتہ کر لیں۔ بھائی نے ندیم کے گھر والوں کو ہاں کر دی اور دو دن بعد منگی کا دن بھی دے دیا۔ انہوں نے امی کو دوبارہ فون کیا گروہ

کی طرح نہ مانیں آخر تینوں بھائیوں نے امی کو سمجھایا کہ اب ہم نے ہاں کر دی ہے۔ اب ہماری عزت کا مسئلہ ہے۔ آپ ہاں کر دیں۔ نجانے کس کس طرح بھائیوں نے امی کو سمجھایا تو میں نے کہا جو تمہاری مرضی میں آئے کرو، مگر میں کسی بات میں شریک نہیں ہوں گی۔ جس دن میری منگئی تھی۔ بتا نہیں سکتی کہ میں کس قدر خوش تھی۔ اپنے آپ کو دنیا کی خوش نصیب لڑ کی سمجھ رہی

تھی۔ جس دن ندیم کے گھر والے ہمارے یہاں آئے اسی دن شام کو ہمارے گھر والے ان کے گھر منگنی کرنے گئے۔ میں گھر میں اکیلی تھی کہ فون کی بیل ہوئی ۔ ریسیور اٹھایا وند یم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کے گھر والے دوسرے کمرے میں ہیں۔ میں چوری سے آپ کو مبارکباد دے رہا ہوں ۔ میں بے حد خوش ہوئی۔ پھر ندیم نے چپکے سے ہماری گی کا ایک چکر لگایا۔ آج وہ اتنے اچھے لگ رہے تھے۔ چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی۔ میرا چھوٹا بھائی اس قدر خوش تھا۔ بولا آپ نے گفٹ نہیں بنوایا؟ میں نے کہا۔ لائے گا کون ؟ وہ بولا۔ میں لاتا ہوں۔ وہ گفٹ لے آیا۔ میں نے اپنی طرف سے چھو بھی کو گفٹ بھیجا۔ دراصل میرے بھائیوں اور بہنوں کو بھی پھو پھی صندل کے ملنے کی بے حد خوشی تھی اور اس خوشی کا وسیلہ میں اور ندیم بنے تھے۔ آج میری منگی کو ڈیڑھ برس ہو چکا ہے اور اب اپریل میں ہماری شادی ہو گی۔ آج میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت بجھتی ہوں اور دعا دیتی ہوں کہ اس عید رات کو جب میرے

بھائی نے مجھے بازار میں دیکھا۔ ناراض تو ہونے پر سنجیدگی سے سوچا بھی۔ یوں تھوڑی سی قربانی کا صلہ مجھے اور ندیم کو دائمی خوشی کی صورت میں ملا۔ اگر ندیم کی امی میری سگی پھو پھی نہ ہوتیں تو شاید ہماری کہانی کا انجام المناک ہی ہوتا۔ یہی سوچ کر آج بھی لرز جاتی ہوں۔ میں ہر وقت خداسے اپنے اور ندیم کے اپنے مستقبل کی دعا کیا کرتی تھی، جو قبول ہوئی۔ اسی لئے کہتے ہیں ہر وقت اچھی دعا کرنی چاہئے۔ نجانے کون سی گھٹری قبولیت کی ہو۔ یہ میرا ایمان ہے ، خداسے سچے دل سے جو بھی مانگو وہ ضرور  ملتاہے۔


Post a Comment

0 Comments