Search Bar

Ghur Ka Bheedi | گھر کا بھیدی Teen Ortain Teen Khaniyan

 

Ghur Ka Bheedi  گھر کا بھیدی Teen Ortain Teen Khaniyan
Ghur Ka Bheedi  گھر کا بھیدی Teen Ortain Teen Khaniyan

Ghur Ka Bheedi  گھر کا بھیدی Teen Ortain Teen Khaniyan

ان دنوں بارہ سال کی تھی، ہر فکر و غم سے آزاد تھی۔ اسکول سے گھر اور گھر سے اسکول بس یہی زندگی تھی۔ پانچویں پاس کی تھی کہ ہمارے خاندان میں ایک دھماکا خیز واقعہ ہو گیا۔ مجھے ماموں اصغر نے پہلی بیوی اور چار بچوں کے ہوتے ایک تھیڑ ایکٹریس کی لڑکی چمن آرا سے شادی کر لی۔ یہ آمر سارے خاندان کے لئے افسوس ناک تھا لیکن مجھ کو اس کی کوئی پروانہ تھی۔ میں زمانے کے ہر پیچ و خم سے نابلد نئی ممانی کے دیدار کو بے قرار تھی۔ خاندان والوں کی مخالفت اور بڑی بیوی کے ڈر سے ماموں نے چمن ممانی کے لئے ہمارے گھر سے قریب ایک مکان لے

لیا۔ نئی ممانی کو اکیلا چھوڑنا اب ان کی مجبوری تھی کیونکہ خاندان نے ان کی دوسری بیوی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ آخر کب تک وہ چمن کے گٹھنے سے لگے رہتے۔ مرد کو فکر معاش کے لئے تو گھر سے نکلنا ہی پڑتا ہے۔ ممانی کے لئے ایک تو یہ محلہ نیا تھا،دوسرے وہ اکیلے رہنے سے بوکھلاتی تھیں۔ ماموں سے کہتیں کہ گھر پر ہی رہو۔ یہ ایک بڑا مسئلہ تھا۔ اس طرح وہ اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے پاس بھی نہیں جا سکتے تھے۔ ایک دن وہ اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے پاس گئے تو چمن آرا بیگم کو ہمارے پاس چھوڑ گئے۔ وہ بظاہر ایک اچھی خاتون لگیں۔ ایک ہی رات میں وہ ہم سے مانوس ہو گئیں۔

اصغر ماموں ایک دن کا کہہ کر گئے تھے لیکن دو دن لگا دیئے کیونکہ ان کی پہلی بیوی دوسرے شہر میں رہتی تھیں۔ یہ وقت ان کی نئی نویلی بیگم نے امی سے اور مجھ سے باتیں کر کے گزارا۔ امی سے وہ بار بار کہتیں کہ باجی ماں باپ سے رشتہ توڑ کر ان کے پیچھے آگئی ہوں، اب تو آپ لوگ

ہی میرے اپنے ہیں۔ آپ میر اساتھ دیں ورنہ اور کہاں جائوں گی۔ تبھی امی نے ممانی کو گلے لگالیا اور کہا۔ تم آج سے مجھے اپنی بہن سمجھو۔ جب کوئی مشکل ہو مجھے بتائو گی۔ میں ہر طرح سے تمہارا ساتھ دوں گی۔ خود کو اکیلامت سمجھو۔ اگلے دن ماموں آئے۔ امی سے کہا کہ کل سے میں ڈیوٹی پر جارہا ہوں اور چمن آرا اکیلی رہنے پر تیار نہیں۔ آپ نمرا کو اس کے پاس رہنے کے لئے بھیج دیں۔ اس کا اسکول ویسے بھی ہمارے گھر کے قریب ہے۔ امی نے مجھ کو ماموں کے ہمراہ بھیج دیا۔ چمن آرا ممانی خوش ہو گئیں۔ اچھے طریقے سے مجھے خوش آمدید کہا۔ اب وہ سارا دن مجھ سے مزے مزے کی باتیں کرتیں۔ ماموں کام پر چلے جاتے ، میری اسکول سے چھٹیاں تھیں تو ہم کو باتیں کرنے کا بہت وقت ملتا تھا۔ ہم مل کر بچن سنبھالتے اور کھانا پکاتے۔ ممانی اپنے بچپن کے قصے سناتیں اور میرے ساتھ اچھا وقت گزارنے کی کوشش کرتیں۔ اسکول کھلے تو پڑھائی کا

مسئلہ در پیش ہوا۔ مجھے حساب کے سوال سمجھ نہیں آتے تھے۔

ماموں تو صبح آفس چلے جاتے، ان کے پاس وقت کہاں تھا کہ مجھ کو ریاضی مجھاتے اور چمن آرا کو ریاضی نہیں آتی تھی۔ البتہ انہوں نے اس مسئلے کا یہ حل نکالا کہ مجھ کو پڑوس میں ٹیوشن لگوادی اور میں حنا باجی سے پڑھنے ان کے پاس جانے لگی۔ حنا باجی کے والد ٹھیکیدار تھے۔ وہ گھر پر نہ رہتے تھے۔ ان کے لڑکے بھی دوسرے شہر ہوتے، والدہ ہی گھر پر ہوتی تھیں۔ حنا باجی اپنی والدہ کے ساتھ گھریلو امور سر انجام دیتیں۔ ان کےپاس کافی وقت ہوتا تھا تبھی مجھ کو بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتی تھیں۔ ایک دن جب میں پڑھ چکی اور گھر جانے لگی۔ باجی نے کہا۔ ٹھہر و نمرا ابھی مت جائو۔ آئو چھت پر چلتے ہیں، دیکھو توکتنا اچھا موسم ہے۔ ابھی ہم چھت پر جا کر بیٹھے ہی تھے کہ کسی مردانہ آواز نے اُن کو پکارا۔ حنا دیکھو! میں آگیا ہوں۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔ ایک نوجوان باجی سے گلے مل رہا تھا۔ باجی بھی وفورِ جذبات سے کھل اٹھی تھیں۔ ارے ذیشان تم کب آئے ؟ وہ خوش ہو کر بولیں۔ میں حیرت سے ان کو دیکھ رہی تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا۔ نمرا یہ میرے بھائی ہیں، حیدر آباد میں ملازمت کرتے ہیں۔ میں نے ذیشان کی طرف دیکھا تو پلک جھپکنا بھول گئی۔ وہ بھی ششدر سا مجھے تک رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بے حد خوبصورت تھیں۔ اچھا اب تم جائو نمر ا۔ بڑے دنوں بعد میر ابھائی آیا ہے۔ تم کل اور پر سوں مت آنادو دن تمہاری چھٹی ہے۔ میں وہاں سے چلی آئی مگر دو آنکھیں میرے ساتھ ساتھ جیسے میرے تعاقب میں دروازے سے گلی تک آگئیں۔

یہ آنکھیں میرے دل میں کھب گئی تھیں۔ گھر آکر اب یہ دو آنکھیں مجھے در و دیوار سے جھانکتی محسوس ہوئی تھیں۔ لیکن مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے ممانی کو بھی بتایا کہ حنا باجی کا بھائی آیا ہوا ہے اور اس کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں۔ یہ آنکھیں مجھ کو گھر میں اِدھر اُدھر بکھری نظر آتی ہیں۔ میری بات سُن کر ممانی ایک خاص ادا سے مسکرادیں۔ تیسرے دن جب میں پڑھنے باجی کے گھر پہنچی ، وہ ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے سلام کیا۔ وہ بغیر جواب دیئے مسکر اکر اُٹھ گیا، سلام کا جواب باجی نے دیا۔ تھوڑی دیر بعد جب میں نے کھڑکی پر نظر ڈالی، مجھے گمان ہوا، دو خوبصورت آنکھیں مجھ کو کھڑ کی کی اوٹ سے دیکھ رہی ہیں۔ طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر کے میں وہاں سے لوٹ آئی۔ گھر آئی تو کوئی عجب سے پریشانی بھی میرے تعاقب میں آئی۔ اک ممانی ہی میری راز داں تھیں۔ ان کو بتایا کہ آج وہ آنکھیں مجھ کو پریشان کرنے کو پر دے کے پاس موجود تھیں تو انہوں نے کہا۔ میر اخیال ہے وہ لڑکا تم کو پسند کرنے لگا ایک روز میں ٹیوشن لینے گئی تو نا باجی گھر پر نہ تھیں۔ کچھ دیر میں ان کی امی کے پاس بیٹھی رہی۔ گھر آنے لگی تو ذیشان نے کہا۔ آٹو میں تم کو پڑھا دوں۔ کیوں آج پڑھائی کا حرج کرتی ہو۔ میں نے آنٹی کی طرف دیکھا۔ وہ بولیں۔ ہاں ہاں بیٹی پڑھ لو۔ میں پڑھنے کو بیٹھ گئی۔ اس نے مجھے زیادہ سے زیادہ سوال سمجھائے۔

شاید وہ یہ چاہتا تھا کہ میں کچھ اور بھی وقتوہاں رکوں۔ ابھی ذیشان کے پاس بیٹھی پڑھ رہی تھی کہ حنا باجی آگئیں۔ باقی جو کچھ رہ گیا تھاوہ باجی نے پڑھا دیا۔ پھر آئے دن یہ ہونے لگا کہ باجی گھر پر نہ ہو تیں مگر ذیشان موجود ہوتا۔ وہ مجھ کو پڑھانے لگتا اور میں بیٹھ جاتی۔ آنٹی نے ایک دن کہا۔ بیٹی تمہاری حنا باجی کو روز بازار جانا ہوتا ہے۔ ذیشان سے بڑے ان کے بھائی ارمغان کی شادی کے لئے کچھ خریداری کرنی ہوتی ہے، اس لئے وہ مصروف ہو گئی ہے۔ مجھے ذیشان سے کچھ شکایت نہ تھی مگر ایک مسئلہ تھا کہ جب وہ میری طرف دیکھا تو نروس ہو جاتی۔ میں اس اندازِ نظر سے نا آشنا تھی اس لئے الجھن ہوتی تھی۔ رفتہ رفتہ میں اس انداز نظر کی عادی ہو گئی۔ اب یہ حال تھا کہ جس روز ذیشان نہ ہو تا دل بجھ جاتا۔ دل حنا باجی سے پڑھنے میں نہ لگتا اور جلد از جلد وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتی۔ ایک دن میں چونک گئی۔ جب اسکول سے نکلی، اس کو گیٹ کے قریب ٹہلتے دیکھا۔ خیر اس نے مجھے کچھ نہ کہا۔

اس دن میں ممانی چمن آرا کے گھر جانے کی بجائے اپنے گھر چلی گئی، ان کا گھر راستے میں پڑتا تھا۔ وہ تیز تیز چلتا مجھ سے پہلے گھر پہنچ گیا اور جب میں ماموں کے گھر کے سامنے سے گزر کر امی کے پاس جارہی تھی ، وہ اپنے دروازے پر کھڑ املا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ میں پھر بھی نہ سمجھی کہ یہ سب کیوں اور کیا ہے ؟ اب تو اکثر جب امی ابو کے گھر جاتی، وہ اپنے گھر کے آس پاس ملتا اور ہاتھ کے اشارے سے سلام کرتا۔ روزانہ اس کی نگاہیں نجانے کیا کیا پیغام دیتیں لیکن میری سمجھ میں کچھ نہ آتا۔ پچھلے کئی دنوں کی طرح آج بھی حنا باجی گھر پر نہ تھیں۔ اس

دن چھٹی تھی، دن کے تقریباً نو بجے تھے۔ میں ان کی امی کے پا س بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے ذیشان کو آواز دی۔ بچی بلا وجہ بیٹھی ہے ، اس کا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ ذیشان بیٹے تم ہی اس کو پڑھادو۔ حنا تو جانے کب تک آئے۔ ذرا دیر بعد ان کے دائیں طرف کی پڑوسن نے آنٹی کو اپنی لڑکی بھیج کر بلوالیا۔ کہا کہ سُنار آیا ہوا ہے، آکر ڈیزائن دیکھ لیں۔ وہ فور چادر لپیٹ کر چلی گئیں۔ ان کو یہ دھیان بھی نہ رہا کہ میں اور ذیشان گھر میں اکیلے ہیں۔ بس اتنا کہا کہ پانچ منٹ میں آتی ہوں۔ نمر بیٹی ہانڈی چولہے پر چڑھی ہے ، ذرا دیکھ لینا۔ اس روز پڑھاتے پڑھاتے ذیشان نے کہا۔ نمر اتم اتنا کم کیوں بولتی ہو۔ میں نے جواب دیا۔

مجھے زیادہ باتیں کرنا نہیں آتیں۔ وہ بولا۔ تم جانتی ہو میری چھٹی ختم ہو رہی ہے اور مجھے واپس ملازمت پر جانا ہے۔ نہیں۔ میر اجواب ایک لفظ میں تھا۔ اچھا تو سن لو۔ تم نے کسی کی روح پر قبضہ کر لیا ہے اور اس کے دل کی دھڑکن بن گئی ہو۔ میں ہونقوں کی طرح اس کی طرف دیکھنے لگی۔ کہنے لگا، ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ کیا میری آنکھیں بھینگی ہیں۔ نہیں تو۔ نروس ہو کر میرے لبوں سے یہ الفاظ بے ساختہ ادا ہو گئے۔ آپ بھینگے تو نہیں۔ آپ کی آنکھیں تو بہت خوبصورت ہیں۔ اچھا ! خوبصورت ہیں میری آنکھیں۔ کیا تم خوبصورت کا مطلب جانتی ہو ؟ نہیں، نہیں۔ میں نے دونوں جواب دیئے تو کہا کہ تم بہت معصوم ہو نمرا۔ تمہارا یہ معصوم چہرہ میرے ذہن کے کینوس پر ایک پل کے لئے بھی تم نہیں ہوتا۔ جانتا ہوں تم ابھی بہت چھوٹی ہو۔ شاید تیرہ یا چودہ سال کی لیکن محبت عمر نہیں دیکھتی۔ میں چار ماہ بعد آئوں گا، تم سوچ کر رکھنا کہ تم نے میرا انتظار کرنا ہے یا نہیں۔ تمہیں میری اس بات کا جواب دینا ہو گا۔ بڑے بھائی کی شادی کے بعد میں اماں سے تمہارے بارے میں بات کروں گا۔ میں حیران و پریشان گھر آگئی کیونکہ میری سمجھ میں ان کی بات ادھوری آئی تھی۔ پوری طرح ذیشان کی بات کا مطلب نہ سمجھ سکی۔ انتظار سے نا آشنا ایک چھٹی جماعت کی طالبہ کو بھلا کیا پتا کہ محبت کیا ہوتی ہے اور انتظار کس بلا کا نام ہے اور وہ کیوں انتظار کرنے کا کہتا ہے۔ گھر آکر بہر حال ذیشان کی باتیں میرے ذہن سے محو نہ ہوئیں بلکہ مجھ کو پریشان کرنے لگیں۔

بالآخر میں نے ممانی کو سب کچھ بتادیا۔ وہ آزاد خیال تھیں۔ دل کے کانوں سے میری بات سنی اور پریشانی کو بھانپ لیا۔ بولیں۔ نمر ا تم تو خوش نصیب ہو، اتنا چاہنے والا ملا ہے۔ اگر مجھے کوئی ایسا کہا تو میں فوراً محبت کا جواب محبت سے دیتی۔ انہوں نے محبت کے بارے میں ایسی

باتیں کیں کہ میں اس کام کو بہت ضروری اور اہم خیال کرنے لگی۔ ان کی باتوں نے میرے کچے ذہن پر بہت بُرے اثرات مرتب کئے۔

میرے دل میں چھنے والی بے چینی پیدا ہو گئی۔ نجانے کیا ہوا کہ میرے دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ سارا دن اُداس رہتی۔ امی کے پاس جانا بھی کم کر دیا۔ چمن آرا ممانی کے قریب رہنے کی کوشش کرتی جیسے یہی وہ ہستی ہے جو مجھے پریشانیوں اور ذہنی خلفشار سے بچالے گی۔ ہر وقت ان ہی سے باتیں کرنے کی کوشش کرتی۔ وہ بھی مجھے ٹوکنے کی بجائے میرے حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ بار بار جتلا تیں کہ تم مانو یانہ مانو تم کو ذیشان

سے محبت ہو گئی ہے اور یہ کوئی بُری بات نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے بار بار مجھ کو اس طرح یاد کرادی کہ میں نے محسوس کیا کہ اب میں ذیشان کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ مجھ کو محبت کا مطلب سمجھ میں آنے لگا کہ ہر وقت جس کی یاد ستائے، ہر دم جس کی کمی محسوس ہو ، سمجھو کہ اس سے محبت ہو گئی ہے۔ میں اب کھل کر ذیشان کا نام لینے لگی۔ پڑھائی سے دل اچاٹ ہو گیا۔ سوچتی کیا واقعی محبت انسان کو پاگل بنادیتی ہے۔ میری حالت بھی ان دنوں پاگلوں جیسی ہو گئی تھی۔ اس حالت میں ممانی نے میری بہت دل جوئی کی، بہت خیال رکھا۔ اب سوچتی ہوں کہ ان کا یہ لگائو بھرا برتائو ، ان کی دوستی نہیں بلکہ دشمنی تھی۔ اگر ان کو مجھ سے دُشمنی نہ ہوتی تو وہ مجھ کو سمجھاتیں، نہ کہ اس عذاب میں داخل کرتیں اور ایسے روگ میں مبتلا کر دیتیں کہ جس سے میں قطعی نا آشنا تھی۔

وہ مجھے سمجھا کر روک دیتیں کہ ایسی باتیں نہ سوچو ، یہ باتیں تمہارے سوچنے کی نہیں ہیں۔ بس اپنی پڑھائی کی طرف دھیان دو۔ غرض کہ وہ اچھی ممانی نہ تھیں۔ میں تو لائق طالبہ تھی۔ مجھ کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کی بجائے انہوں نے سیدھے رستے سے بھٹکا دیا اور ایسے رستے پر چلایا۔ اگر ان کی جگہ میری ماں ہوتی تو وہ ضرور مجھے روکتی۔ یہ چار ماہ مجھ پر صدیوں کی طرح

بھاری گزرے۔ بالآخر ذیشان لوٹ آیا۔ میر ادل کھل اُٹھا۔ ہر وقت دھڑکنیں تیز رہنے لگیں۔ ممانی اس کے نام سے چھیڑ نے لگیں۔ میں حنا باجی کے گھر گئی۔ اس نے میر اہاتھ تھام لیا اور سوال کا جواب مانگا۔ مجھ سے جواب بن نہ پڑا تو رونے لگی۔ مجھ کو روتا دیکھ کر وہ بے قرار ہو گیا۔ بولا۔ مجھے یقین تھا کہ میری محبت کا طوفان تمہارے دل میں ضرور تباہی مچادے گا۔ تم نہیں جانتیں میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔ اب میں ان کے گھر جاتی کسی نہ کسی بہانے ، ایک طرف ہٹ جاتا اور مجھے اُدھر بلا لیتا۔ ان کے گھر والوں سے چھپ کر ہماری ملاقاتیں ہونے لگیں۔ میں ساری باتیں ممانی کو ضرور بتاتی تھی۔ وہ کہنے لگیں۔اگر حنا کے گھر ذیشان سے بات کرنے سے تم کو خوف آتا ہے تو اپنا گھر تو محفوظ ہے۔ تمہارے ماموں آفس گئے ہوتے ہیں، تم اس سے یہاں بلا کر مل لیا کرو لیکن میں دن میں اس کو بلانے سے ڈرتی تھی کہ ہمارے گھر سے بھی لوگ آجاتے تھے لہذا چمن آرا نے یہ حل نکالا کہ میں اس کو رات کو بلایا کروں

جب ماموں اصغر گہری نیند سو جائیں یا وہ اپنے پہلے والے گھر گئے ہوئے ہوں۔ سو ممانی نے خود رات کو اس کو پچھلی طرف کی گیلری میں آنے کو کہا۔ خود دو چار منٹ بات کی اور ہم دونوں کو تنہا چھوڑ کر چلی گئیں۔ وہ ہمیں مسلسل تنہائی میں ملنے کا موقع دیتی رہیں۔ اس وقت تو میں ان کو اپنا سب سے بڑا محسن سمجھتی تھی۔ اب زندگی کے اس موڑ پر احساس ہوتا ہے

کہ وہ میری سب سے بڑی دشمن تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا تعلق گہرا ہوتا گیا۔ سچ کہتے ہیں کہ ایسا تعلق زیادہ دیر چھپا نہیں رہ سکتا۔ میرے بھائی نے ایک دو بار جب ذیشان کو ماموں کے گھر سے نکلتے دیکھا تو انہوں نے ممانی پر شک کیا۔ جب میرے بھائی نے ان سے پوچھا کہ یہ پڑوسی لڑکا کیوں تمہارے گھر آتا ہے تو انہوں نے الٹاوار کر دیا اور طوفان کھڑا کر دیا کہ کر توت تمہاری اپنی لاڈلی بہن کے اور الزام مجھ پر لگایا جار ہا ہے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے ممانی نے میرے بھائیوں کو گھر پر بلالیا۔ مجھے اور ذیشان کو معاملے کی خبر نہ کی۔ جب ذیشان مجھ سے ملنے آیا تو بھائیوں کو ممانی نے خبر کر دی۔ وہ تو میرے بارے میں ایسا سوچ بھی نہ سکتے تھے اور نہ ہم ہی سوچ سکتے تھے کہ یہ خاتون ہمیں یوں رُسوا کریں گی۔ میرے بھائیوں نے ذیشان کو پکڑ لی اور خوب مارا اور مجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گھر لے آئے اور مارا۔ میں جانتی تھی کہ میری باری ہے، مار کھاتی رہی۔ میرا اسکول جانا بند ہوا اور بھائیوں نے امی سے کہا کہ اس کی جلد از جلد شادی کر دو۔ گھر والے تو میرے لئے عجلت میں رشتہ ڈھونڈ رہے تھے اور مجھے ذیشان کی فکر لگی تھی۔ ایک روز موقع پا کر بڑی مشکل سے میں گھر سے نکل کر اس سے ملنے چلی آئی۔ وہ اپنی بیٹھک میں تھا اور بیرونی در کھلا تھا۔ میں گلی سے ہی بیٹھک میں چلی گئی لیکن اس نے مجھ سے بات کرنے کی بجائے منہ پھیر لیا۔ وہ میرے بھائیوں سے ڈرا ہوا تھا۔ جب میں نے دوبارہ مخاطب کیا تو بولا۔ نمر ا میں تم سے محبت نہیں کرتا۔ وہ میری بھول تھی، اب تم مجھ سے ملنے کبھی مت آنا۔ میری شادی میری کزن سے ہو رہی ہے۔ اب تم چلی جائو، میری اور اپنی شامت مت بلائو۔ مجھ کو اس سے ایسے جواب کی توقع نہ تھی۔ دل کو ٹھیس لگی۔ مجھے سخت تکلیف پہنچی مگر کچھ نہ کہہ سکتی۔ روتی ہوئی گھر آگئی۔ جس پر سب کچھ قربان کر دیا، اس نے جان کے خوف سے مجھ سے منہ موڑ لیا تھا۔ لیکن یہ اچھا ہی ہوا۔ مجھے سبق تو مل گیا کہ ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکال کر میں نے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔ گھر میں میری شادی کی تدبیریں ہو رہی تھیں اور مجھے شادی سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ شادی کیا تھی، بس مجھے بنا سنوار کر ایک مقبرے میں زندہ دفن کیا جانا تھا۔ دولہا میرے والد کی عمر کا تھا جس کی بیوی وفات پاچکی تھی۔ والدہ اور والد دیکھتے رہ گئے اور جو ان بھائیوں نے اپنی عزت پر آنچ آنے کے خوف سے میری شادی کرادی۔ شادی کے دس برس بعد میراشوہر دمہ کے مرض سے وفات پا گیا۔ جوانی میں بیوہ ہو گئی۔ شوہر کی کافی جائیداد تھی، مجھے بھی حصہ ملا۔ میں نے دوبارہ شادی نہ کی۔ اب شادی کی چاہ نہ رہی تھی۔ مجھ کو کم سنی میں ایک غلط عورت کے گھر رہنے کی بہت بڑی سزا ملی۔ آج بھی سوچتی ہوں کہ میری اس بربادی میں کس کا قصور تھا۔ میری والدہ کا جنہوں نے مجھے ایک غیر عورت کے سپر د کیا یا اس عورت کا جس نے مجھے اپنی ڈگر پر چلایا اور حفاظت کرنے کی بجائے مجھ کو تہی دامن کر دیا اور ر سوا بھی ..... 


Post a Comment

0 Comments