Search Bar

Bin Khusbo Ka Phool Teen Auratien Teen Kahaniyan

 

Bin Khusbo Ka Phool Teen Auratien Teen Kahaniyan


جن دنوں میری عمر آٹھ سال نو برس تھی۔ ہمارے گھر ایک لڑکا آیا۔ یہ ماجھے کریم کا بیٹاثابر کھتا۔ ماجھے کی گائوں م یں آٹا پیسنے کی چکی تھی۔ لڑکے کو ا س نے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیامت، کیونکہ وہ اسکول بناتا اور باپ کے ساتھ پکی پر بیٹھنے سے انکاری نت۔ ان دنوں اباحبان اسی گائوں م یں اسکول ماسٹر تھے جہاں ماجھارہتات۔ ابا بان کا تبادلہ گائوں سے شہر ہوگیا تو ہم شہر آگئے۔ والدنے شاہد کو اپنے پاس رکھ لیا۔ ماتھے کو سمجھایا، تمہارا لڑکا ہونہارہے، پ پڑھنا پاتا ہے تو پڑھنے دو۔ کوئی لڑ کانو کر رکھ لو زبردستی پکی پر مت بھائو، پڑھ لکھ جائے گا تو ا س کی زندگی بن بائے گی۔ مانجا ابا الفاظ کر تاتا، چپ ہو گیا۔ شاہد ہارے گھر رہنے لگا، وہ اب روز اسکول باتا، اسکول سے واپس آکر ہمارے گھر کے کام کاج کر دیا کرتا۔ بہت ذہین مت، تبھی ابا بان اس پر توب دیتے تھے اور اپنے بچوں کے جی برتائو کرتے تھے، تاہم جب بھی ہم ا س کو پکارتے وہ دوڑ کر آتا اور ہر حكم بحب الا تھا۔


شاید وہ احساس کمتری م یں مبتلا ہو گیا کہ رفت رفت ہم ا س ے نوکروں کا بابر ستائو کرنے گئے تھے۔ حالانکہ وہ میری ماں کو اماں تی اور والد کو اباجی کہہ کر پکار تاتا، وہ بھی اس کو بیٹا کہہ کر ہی محتاطب کرتے تھے لیکن جب کوئی کام بتانا ہو تا، مجھے یا بھائیوں کو آواز دینے کی بجبانے شاہد کو ہی آواز دیتے تھے، ا س امتیاز نے ہم بہن بھائی کو نکما اور کام چور بنا دیا اور ہم شاید کو اپنا ملازم سمجھنے لگے۔ شاہد شکل و صورت کا ہیٹا، رنگت سانولی اور نقوش بھدے تھے، جسم گٹھا ہو اور وتد چھوٹا، یوں کہناپاہئے کہ ظاہر کی ہئیت متناسب نہیں تھی ، وہ مجھے اچھا نہیں لگت تا کیونکہ ا س کا زہین کوئی عام ذ ہن نہیں ھتا بلکہ طرار سوچوں کی ایک فیکٹری تھی۔ وہ بڑا سازشیں اور پالاک لگتات، اکثر اپنی پالا کی کے سبب ہم بہن بھائیوں کو آپس میں لڑوادیتا، خود نیک اور اچھا بن بتالین بیماری پٹائی ہو باتی۔ میرے والدین اس کی پالکیوں کو سمجھ ہی نہ پاتے۔ مگر میں جاتی تھی، میرے دل میں غصب عربتا لیکن اس کا کچھ نہ بگاڑ پاتی۔ شاہد تیزی اور بھارتی کے باعث میری والدہ کو بے حد پسندتا۔


وہ ان کے بہت سے کام کر دیتا۔ اس باعث اماں اس کے ہونے سے آرام محسوس کرتی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے کام جو ہم بہن بھائی کرنے سے کتراتے تھے ، مثلا ماں کپڑے دھوتیں تو وہ پانی کی بالٹیاں بھر بھر کر لاتا، کپڑے کھنگال کر ائی پر ڈالتا، جب کپڑے سوکھ باتے، ریا سے اتار کر تہ کر کے الماریوں م یں رکھتا، وہ کام توب اور دینی سے

کرتا، تجھی اماں اسے اولاد سے بڑھ کر پاتی تھیں۔ ہم سے کہتیں تم سے توپ پر آئی اولاد بھی ہے، اگر پ میرا خیال نہ کرتا تو میں اکیلی اتنے سارے کام کر کے لوثباتی، بیمار پڑ باتی۔ عن ش ہم اس کو گردانتے مگر ماں باپ اس سے بہت خوش تھے۔ ہم بھی اس سبب اس کو برداشت کئے ہوئے تھے کہ کام تو ہمارے بھی وہ نبیڑ دیتاتا۔ ایک بات جو ا س کی مجھے بہت بری لگتی تھی وہ یہ کہ ہر وقت اپنے باپ کو بر انجلا کہتارہتاتا۔ اس کے لبوں پر ہی الفاظ ہوتے کہ ماسٹر صاحب اگر آپ مجھے اپنے پا ت رکھتے تو آج میں اسکول پڑھنے کی بجبانے گائوں م یں کار مٹی اور گوبر ڈھو رہا ہو تایا پکی کا شده ابن حبانتا... آپ کی بدولت علم کی دولت نصیب ہوئی ہے۔


 ایک میرا باپ ہے جس نے مزدور بنانے کی خاطر مجھے گھر سے نکال دیا۔ الٹ اے غارت کرے۔ ایا اس کو سمجھاتے کہ اپنے باپ کو بر امت کہا کرو۔ لیکن یہی ایک بات دوت سمجھتا تا۔ جب اس نے میٹرک پاس کر لیا۔ والد نے پایا کہ وہ اب اپنے باپ کے پاس گائوں لوٹ جائے اور ان کا دست راست بن بائے۔ وہ نہ مانا۔ گڑگڑانے لگا، منت زاری پر اتر آیا کہ آپ کا بیٹا ہوں، اب کے پاس رہوں گا ، کان پڑھوں گا۔ میٹرک میں اس نے فرسٹ پوزیشن لی تھی۔ سووالد صاحب نے کا بے میں داخل کرادیا۔ کا لمبا کر وہ بھی نہ بدلا، اسی طرح نوکر بنارہا۔ کام کاج میں میرے والدین کا ہاتھ بٹاتار با بازار کا سودا سلف لاتا۔ مہمان آجاتے توناطر داری م یں معاونت کرتا، بھی ٹوٹی ہوئی پارپائی بنوا کر لا رہا ہے تو بھی چوکھٹ کی م رمت کروارہاہے، سردیوں کا موسم آتا، لیانوں کو ادھیڑتا، روئی کے مشیرالا، دھنوا نے کولے بارہا ہوتا۔ ع رض بیسیوں ایسے کام تھے جو گھر کے دوسرے افراد کرنا اپنی شان کے خلاف بانتے

مگر وہ ان کاموں کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر کر تاھتا۔


گریجویشن مکمل ہوتے ہی وہ ہمارے گھر سے پالا گیا۔ وہ اپنے باپ کے پاس گائوں نہیں گیا بلکہ لاپتہ ہو گیا۔ بعد م یں کسی نے بتایا کہ لاہور م یں ہے۔ شام کو ملازمت کرتا اور مسجلا کا نباتا ہے اور وکالت پڑھ رہا ہے۔ کسی کو احاس ن تا مگر مجھے افسوس ہوتا کہ اس کے رہنے سے میرے بھائی کے اور کام چور ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ وہ پڑھائی سے بھی وہی پرانے لگے تھے۔ میڑ ک ے آگے انہوں نے پڑھ کر دیا جب کہ ہمارے ملکڑوں پر پلنے والا ایک معمولی دیہاتی لڑکا وکیل بن گیا۔ وکالت پاس کرنے کے بعید شاہ نے ہمارے شہر میں پریکٹس شروع کر دی۔ کبھی بھی اب ہمارے گھر آنے لگا۔ اس کے آنے سے والدین خوش ہوتے، اس کی ناطر داری کرتے اور بھائیوں کہ اس کی مثال دیا کرتے۔ ایک دن شاہد نے والد صاحب سے کہا کہ وہ ان کا داماد بن کر ہمیشہ کے لیے ا س گھر سے بڑبناپاہتا ہے۔ وہ کسی صورت ہم لوگوں سے علیحدہ ہونا نہیں پاہتا۔ اس نے گویا ابو سے میرارشتہ طلب کیات۔ جب کہ میری منگنی بچپن میں نالہ زادے طے تھی۔


 مجھے شاید اس لحاظ سے تو بالکل بھی پسند نہیں تا کہ ا س کے ساتھ زندگی بھر کا بندھن تائم ہو، وہ مجھے نقوش اور چھوٹوت کاسانولا لڑکا جس پر ہم نے ہمیث ایک مالک کی طرح حکم پلایا تاکلا، میں کیونکر اس کو اپنی زندگی کا بھی تبول کر لیتی۔ ہم بہن بھائی تو ابھی تک ا س کو اپنے گھریلو ملازم یابی تصور کرتے امی نے مجھے افسرده و بر ہم دیکھا تو صاف انکار کر دیا۔ شاہ سے کہا کہ میری بیٹی کی منگنی ہو چکی ہے، تمہارے سا تھ رشتہ داری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس پر وہ منہ لگا کر پلاگیا۔ بہت دنوں تک وہ ہمارے گھر آیا۔ ہم یہی سمجھے کہ رشت سے انکار پر ناراض ہو گیا ہے۔ ا س بات کو چند دن گزرے تھے کہ ایک روز صبح سویرے پیچھے پولیس والے آئے اور والد ص احب کو بلا کر ایسی بات کہی کہ وہ کتے م یں آگئے۔ گھبرائے ہوئے اندر آئے اور اسی کو ایک طرف لے جا کر بولے۔ پولیس والے کہتے ہیں کہ تمہاری لڑکی کا پال پن ٹھیک نہیں ہے،


 وہ ایک مشکل سے نبات پانے کے لیے ایک نرسن کے پاس گئی تھی، اسی نرس کے بھائی نے یہ اطلاع پولیس کو دی ہے اور رپورٹ درج کرائی ہے۔ آپ شریف لوگ ہیں ہم نے بغیر تصدیق کی رپٹ درج کر فی مناسب نہیں مجھی لیکن اس معاملے کی تفتیش ضروری ہے۔ ہم نے بھی رپٹ لکھی ہے ہماری لیڈی پولیس آپ کی بیٹی سے تفتیش کرے گی، پھر میڈیکل ہو گا۔ آپ کی لڑکی کو بتانے لےبانا ہو گا، تاہم آپ کو موقع دیناپاہتے ہیں، اپنی بیوی کے ذری سے لڑ کی سے پوچھ گچھ کر لیں، اس سے پہلے کہ معاملہ آگے بڑھے۔ پسراسر جھوٹ ہے۔ میری نیکی پر بہتان ہے۔ والدہ رونے لگیں۔ ہماری پروین امینی نہیں ہے، پ نہیں ہو سکتا۔ ان دنوں م یں سلائی کڑھائی کے اسکول حباتی تھی اور ڈپلو م لینے والی تھی، جب امی نے مجھے سے پوچھا۔ میں رونے گی۔


یہ ایسی بھی انکی بات تھی جس کو کوئی بے قصور لڑکی برداشت کر سکتی تھی، جب کہ میں نے تو بھی کسی غیر م رد سے بات تک نے کی تھی، نہ میرا کسی شخص سے ایس ویب رابط یاواسطہ ات، بلا اتنا بڑا الزام کیونکر سہتی، م یں تو غم سے فرش پر گر کر بے ہوش ہو گئی۔ والدبلے پارے گھبرائے ہوئے بیٹھک میں گئے جہاں حوالدار بیٹھا ہواتا۔ اس کو کہا کہ یقینا آپ کو عناد نہیں ہوئی ہے، میری بیٹی ایک شریف اور قطعی درست پل خپلن والی ہے، آپ کے خدشے کی بات پر اس کی ماں نے بچی سے کی وہ اس الزام کو سن کر بے ہوش ہو گئی ہے، آپ دوبار در پورٹ کی پڑتال کریں، یقینا کسی اور لڑکی کے بارے م یں ہو گی۔ میاں تم شریف آدمی ہو، ہم نرمی سے کام لے رہے ہیں۔ لڑکی کا نام پر دین اور باپ کا نام علم دین، گھر کا پتا، مکان نمبر سب وہی ہے جو تمہارے مکان کا ہے۔ اگر ہم کوعنا بھی ہے تو ہی تصدیق کی خاطر لڑ کی کا میڈیکل کرانے کا کہہ رہے ہیں تا کہ بے قصور ہے تو اس الزام سے بری ہو اور ہم رپٹ لکھوانے والے کی گردن کو دبوچ لیں۔ والدبلے پرے ایک باریش معلم تھے، رونے لگے ، امین آفت کا انہوں نے کب تصور کیا ہو گا؟ وہ قسمیں اٹھانے لگے کہ میری بچی تو فرشتوں کی طرح معصوم ہے مگر پولیس والے کب بنا پھٹے لئے مانتے ہیں، بولے میاں بی، آپ لاکھ شریف سہی لیکن عورتوں کا کیا بھروسہ ۔


 ماں، بیٹی کے راز کا پردہ نہ رکھے گی تو اور کون رکھے گا۔ ایسے معاملات میں مجبور آما میں راز دان بن جاتی ہیں، م ردوں کی خون کی وب سے خبر نہیں ہونے دیتیں، تمہاری لڑ کی سلائی سینٹر توروز بانتی ہے نا، گھرے تم بھی نکلتے ہیں اس کے آگے کسی شیطان صفت کے چنگل م یں شریف لڑکیاں کبھی پھنسی باتیں ہیں۔ میڈیکل تو کروانا پڑے گا، بے گناہ ہوئی تو چھوڑ دی بائے گی۔ پولیس کو بے گناہی کا ثبوت پاہنے ہوتاہے۔ آباد ہائی دینے لگے کہ اپنی بن بیاہی بچی کو م یں کیونکر اسپتال لے کر تصدیق کا سرٹیفای لوں، یا میرے لئے بانے کا معتام ہے، اوپر سے تمہاری لیڈی پولیس بھی ہمراہ ہوگی، کبابارے زمانے میں میری پریت اپل جائے گی ؟پ میری غیرت گوارا نہیں کرتی۔ اس سے اچھا ہے زہر کھالوں۔ آپ کے زہر کھانے سے مسئلہ حل نہ ہو گا۔ ہاں اتنی مہلت ہے کہ شام تک کسی وکیل کو بلا کر مشورہ کر لیں ۔ تب تک ہماری ایک لیڈی پولیس اہلکار آپ کے گھر پر رہے گی۔


 بالآخر کچھ دے دلا کر والد نے لیڈی پولیس کو پہرہ دینے کی شرط ختم کر ائی وہ اگلے روز آ نے کا کہ کر اباحبان تو بوکھلائے ہوئے تھے، اسی نے کہا شاہد اپتالڑکا ہے، وکیل ہے، ا س کو بلوا کر مشورہ کر لو کہ پ کی طرح ہماری بے قصور بچی کو بتانے کے باتے ہیں۔ والد صاحب نے اسی وقت شاہ کو فون کیا کہ فور ابھی اور اسی وقت گھر پہنچو، تمہاری سخت ضرورت ہے۔ وہ آدھ گھنٹے کے اندر آگیا، اس نے کہا گھبرائے نہیں، آپ کتنے پئے، حوالدار سے بات کرتا ہوں، وہ کیسے ہمارے گھر کی کسی خاتون کو ستانے لے ب نتے ہیں، ایک جھوٹی رپٹ درج کروانے پر بغیر وارنٹی نہیں ہوسکتا۔ نعرض اباحبان اسی وقت اس کے ہمراہ بتانے گئے۔ حوالدار اور کڑک ہو گیا۔ شاہ سے کہنے لگا، تمہارایہاں آنا نہیں بنتا، آپ ان کے حمایتی ہوں گے لیکن وکالت عدالت میں باکر کرنا، اگر ہم نے لڑ کی شے م یں گرفتار کر لی تو ان کی بدنامی ہوبا گیا۔ بے شک لر کی بے قصور ہومگریباں لوگوں کی زبانیں کون بند کرے گا۔ شاہ ، والد کے ساتھ گھر آیا، کہنے لگا، بے شک ہماری ر کی بے قصور ہے لیکن وہ بلائی اسکول جاتی ہے، کی خبر لوگوں کو علم نہ ہو۔ اس عمر کی لڑکیاں غلطیاں کر بنتی ہیں اور جب راز کھلتا ہے پانی سر سے گزرتا ہے۔ عترض طرح طرح کی باتیں کر کے پالاک شاہد نے میرے والد کو تائل کر لیا کہ معاملہ پولیس کا ہے۔


 اب توبان پر یل کر ہر صورت عزت پانا ہو گی۔ بات نکل گئی تو پی بات سمندر کا پانی بھی آپ کی سفید پگڑی پر لگے اس داغ کون دالوکے گا۔ والد سر پکڑ کر بولے۔ بیٹا تم ہی کوئی اس مشکل کا حل نکالوں م یں بیٹی کو ہر گز ب ذریب لیڈی پولیس اسپتال لے جائوں گا۔ آپ پر دین کا نکاح مجھ سے کر دیئے وہ قصور وار ہے یا نہیں ہم آپ دیکھ لیں گے۔ مجھ سے نکاح ہو گی تو گیس ختم ہو بائے گا۔ بعد م یں اگر پروین نے مجھے قبول نہ کیا تو میں اس کی خوشی کی خاطر طلاق بھی دے دوں گا۔ فی الحال آپ کی امانت ہو گی۔ میں وکیل ہوں اگر میرے نکاح میں ہوئی تو پھر دیکھتا ہوں کہ کون اسے گرفتار کرنے کی خبر آت کر تاہے؟ با تواس وقت ا ست در پریشان تھے کہ وہ ان کو کنویں م یں چھلانگ لگانے کو کہتا تو لگا دیتے۔ پولیس سے بان چھڑانے کو انہوں نے میرانشاہ سے فی الفور نکاح کر نا منظور کر لیا۔ ا س شرط

پر کہ اگر پروین، رضامند نہ ہوئی تو رخصتی نہیں ہو گی اور تم کو طلاق دینی ہو گی۔ ہاں، ہاں ماسٹر صاحب، مجھ پر اعتماد کیجئے، مجھ کو صرف آپ کی عزت پانا مطلوب ہے۔ ایہی ہو گا۔ نکاح کے بعد حوالدار کو نکاح نام دکھاتے ہی میں ختم ہو گیا۔ پولیس والاحوالدار شاہد کا روستاتا اور اس کے ساتھ ملی بھگت کر کے ہی شاہد نے ب ڈرامر پاکر مجھ سے نکاح کرکے اپنا مقصد حاصل کر لیاتا۔ نکاح کی اطلاع بھی اس نے فورابعد اپنے کسی ذریب سے میرے منگیتر تک پہنپا دی۔ انہوں نے اب رشتے کو ختم کر نانی تا، اس کے بعد وہ کھلے بندوں ہمارے گھر آنے جانے لگا۔ مجھ سے مخاطب ہو تا، کھانے پکو اتا اور حکم پلانے کی کو شش کر تا۔ بالاتر ایک روز وہ مجھے بیاہ لبانے میں کامیاب ہوگیا۔ شادی کے بعد وہ ٹھیک رہتا تو شاید مجھے اس تدر پچھتاوا نہ ہوتا، لیکن ایب نہ ہوا، شادی کے بعد ا س نے نہایت گھٹیا پن کا ثبوت دیا۔ والدین کو مجھ سے ملنے سے روک دیا، مجھے میکے بانے سے منع کرتا۔ والد صاحب نے سمجھانا پایا تو ان کے سامنے تابعدار بن بتا، بعد میں برا بھلا کہتا کہ تم اپنے گھر میں سب سے زیادہ مجھ سے حقارت بھر اروپ رکھتی تھیں۔ تم اپنے آپ کو کیا سمجھتی تھیں۔

تمہارے والدین کا حسن سلوک میرے مد نظر ہے ورنہ تو تم کو ویسے نوکرانی بنا کر رکھتا جیسے تم مجھ کو نوکر سمجھتی تھیں۔ م یں تو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے خون گوند پیکر تم بہن بھائیوں کے ذلت نے رویوں کو برداشت کرتارہا کہ مجھے پڑھ لکھ کر کوئی معتام حاصل کر ناتا۔ ورنہ کوئی اور ہوتا تو م زہ چکھادیتا۔ اب مجھے شاہ کی نفسیات کی اچھی ط رح سمجھ آگئی کہ وہ کسی قسم کی سوچ کا مالک ہے۔ اس نے خوشی سے ہمارے گھر کی علامی نہیں کی تھی، وقت سے مجبور ہو کر صرف تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہ ہماری پاکر ی کر تا رہاھتا۔ پ پاکری اس کے مزاج میں ہر گز نہ تھی۔ ظاہر ہے کون خوش ہو کر کسی کی اس طرح نلائی کرتا ہے۔ جب میں نے اس کتے کو سمجھ لیا تو خود کو بدل لیا۔ اس کو شوہر کا درب دینے کے لیے اپنے آپ کو سمجھاتی تھی کہ اب جب کہ اس کی بیوی بن گئی ہوں، اس کی اپنے گھر میں ماضی کی حیثیت کو جلا کر کیوں نہ اپنے والدین کے سکون کا خیال کروں۔ اس نے کم عمری میں دکھ جھیلنے، ایک اچھے مقصد کے لیے میرے ماں باپ کو بھی کے پاپایا لیکن جب اس کی پ پال یاد آئی کہ س تر گھنائونی حپل پل کر پولیس کے ذریعے مجھ پر غلیظ الزام لگا کر اپنا مقصد حاصل کیا ہے، تب مجھے اس سے نفرت ہونے گی۔ جی پاہتا اس سے طلاق لے لوں جس نے بلیک میل کر کے مجھے حاصل کیتا۔


 گویا پایان تاجو اپنامقصداسل کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتاھت۔ دنیا میں طرح طرح کے انسان ہوتے ہیں۔ ان میں ہر ایک میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور ترابیاں بھی اگر ہم پاہیں تو کسی کی خرابیوں کو نظر انداز کر کے ا س کی خوبیوں سے بھی سکون حاصل کرنے کی کو شش کر سکتے ہیں، پ ایانی سوچ کر میں نے شاہد کو معاف کر دیا اور اس کے ساتھ ایک اچھی بیوی کی طرح گزارہ کرنے کی مان لی، ورنہ اس کے سواپارہ کیاتا۔ وہ میرے والدین کی نظروں میں تو ایک انچنان کتا، اب بھی ان کی عزت کر تاتا، میرے والدین برگز پاہتے تھے کہ میں شاہد سے طلاق لوں. پاہے وہ مجھے پسند کتا یا نہیں۔ ماں باپ کی خوشی کی خاطر میں نے ایباکیا۔ میرے دل نے بھی کبھی اس کو قبول ن کیا۔ پکے ہو گئے تب بھی ۔ اور اس کی وحب پ تھی کہ شادی کے بعد اس نے مجھے یہ بات بتا دی تھی کہ م یں نے ہی تم کوحاصل کرنے کے لیے پولیس کے حوالدارسے تم پر بہتان لگانے والا ڈراما کھیلاتا۔ تمہارے سیدھے سادے والد کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے کہ وہ تمہارا نکاح مجھ سے کر دیں کیونکہ تم مجھے اچھی لگتی تھیں اور م یں تم سے محبت کرتا تھا۔ اس نے جب یہ راز مجھ پر افشا کیا تو مجھے اور بھی اس سے پڑہو گئی۔ اے کاش وہ ا س راز سے مجھ کو آگاہ نہ کرتا تو شاید مجھے بھی ا س کی بے شمار خوبیوں کی وحب سے اپنے ناوند سے محبت ہوباتی اور میں اس کے ساتھ ایک مضطرب زندگین گزارتی۔


Post a Comment

0 Comments